From the transcript
کچھ سال پہلے، میں اپنی گاڑی چلا رہا تھا کہ میں نے ایک ایسی ٹرین کو دیکھا جو پٹری سے اتر گئی تھی۔ اور ظاہر ہے، وہ وہیں ساکن کھڑی تھی اور کہیں نہیں جا رہی تھی۔ جب کوئی ٹرین اس پٹری جاتی ہے جس پر چلنے کے لیے اسے بنایا گیا ہو، تو وہ محض وہیں کھڑی رہتی ہے اور ایک افسوسناک منظر پیش کرتی ہے۔
دیکھئے، وقت کے آغاز میں، خدا نے اپنی تخلیق کے لیے ایک پٹری یا ایک راستہ بچھایا تھا اور یہ راستہ خدا کی تخلیق کے لیے ایک عظیم اور پُر جلال منزل کی طرف جاتا تھا۔ لیکن بارہا، انسان اپنی تخلیق کے لیے خدا کے بنائے ہوئے راستے پر چلنے میں ناکام رہا ہے۔ ہم نے دنیا کو پٹری سے اتار دیا ہے اور انجام کار ایک بڑی ابتری پیدا کر دی ہے۔
اسباق کے اس سلسلے میں، ہم اس راستے کے بارے میں سیکھیں گے جو خدا نے عالمی تاریخ کے ابتدائی سالوں میں اپنی تخلیق کے لیے مقرر کیا تھا—جسے ہم مسیحی حلقوں میں اکثر "تخلیقی قوانین" (creation ordinances) کہتے ہیں۔ اور ہم پیدائش 1-11 کا جائزہ لیں گے، جسے اکثر "قدیم تاریخ" (The Primeval History) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بائبل کے یہ ابواب ہمیں اس حیرت انگیز راستے کو دیکھنے میں مدد دیں گے جس پر خدا چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل موسیٰ کی قیادت میں چلیں۔ اور یہ ہمیں وہ راستہ بھی دکھائیں گے جس پر اس کے لوگوں کو آج بھی چلنا چاہیے۔
ہم نے اپنے پہلے سبق کو "ایک کامِل دنیا" کا عنوان دیا ہے کیونکہ ہم اپنی توجہ پیدائش 1:1–3:2 پر مرکوز کریں گے۔یہ وہ حوالہ ہے جہاں موسیٰ نے پہلی بار یہ بیان کیا کہ خدا نے کس طرح دنیا کو ایک کامل ترتیب میں بنایا جس سے وہ بہت خوش ہوا۔
جیسا کہ ہم دیکھیں گے، اس مثالی دنیا نے اس منزل کی پہلے سے جھلک دکھائی جس کی طرف خدا موسیٰ کے ایام میں اسرائیل کو لے کر گیا تھا—وہی منزل جس کی طرف خدا پوری تاریخ میں اپنے تمام لوگوں کو لے کر جاتا رہا ہے۔ یہ نہ صرف ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ آغاز میں چیزیں کیسی تھیں، بلکہ یہ بھی کہ اب زندگی کیسی ہونی چاہیے، اور ہمارے دور کے اختتام پر ہماری دنیا یقینی طور پر کیسی ہوگی۔
یہ سبق چار حصوں میں تقسیم ہے: پہلے حصے میں ہم پیدائش 1-11 کی قدیم ترین تاریخ کا ایک مجموعی جائزہ پیش کریں گے۔ پھر ہم اپنی توجہ پیدائش 1:1–2:3 تک محدود کریں گے، اور پہلے اس کی ادبی ساخت کو دیکھیں گے۔ اس کے بعد ہم اس ساخت کی روشنی میں پیدائش کے اس حصے کے اصل معنی پر تحقیق کریں گے۔ آخر میں ، ہم دیکھیں گے کہ اس اقتباس کا اطلاق ہمارے جدید دور پر کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ آئیے پیدائش 1-11 کی پوری قدیم تاریخ کے جائزے سے آغاز کرتے ہیں۔
پیدائش 1-11 کے بارے میں ہمارا نکتہ نظر شروع میں کچھ غیر معمولی سا لگ سکتا ہے۔ اس لیے، ہمیں اپنی بنیادی حکمت عملی کی وضاحت کرنی چاہیے۔ بائبل کے اس حصے کے ہمارے مطالعے میں کم از کم تین اہم تصورات ہماری رہنمائی کریں گے: پہلا، ان ابواب کا الہامی ہونا؛ دوسرا، ان ابواب کے پیچھے موجود ادبی پس منظر؛ اور تیسرا، وہ مقصد جس کے لیے یہ ابواب لکھے گئے تھے۔
Continue reading the full transcript